بھٹکل،26؍ جنوری (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے 66 کی فور لین توسیع کے معاملہ میں روز کوئی نہ کوئی اڑچن اور الجھن سامنے آنا معمول بن گیا ہے ۔ اور اس وجہ سے سست رفتاری کے ساتھ آگے بڑھنے والا منصوبہ 2022 میں بھی پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے ۔ جبکہ ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی نے پروجیکٹ پورا کیے بغیر ہی ٹول وصولی کا کام دھڑلّے سے چلا رکھا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں ہائی وے اتھاریٹی اور سرکاری افسران کے ساتھ آئی آر بی کا گٹھ جوڑ بنا ہوا ہے ۔
اب ایک نیا مسئلہ بھٹکل شمس الدین سرکل کے پاس سے 300 میٹر لمبا فلائی اوور بنانے کے تعلق سے پیدا ہوا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ٹھیکیدار کمپنی اور نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کی ملی بھگت سے یہاں پر اصل منصوبے کے مطابق فلائی اوور تعمیر کرنے کے بجائے اچانک ہی ریامپ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
فلائی اوور کی جگہ ریامپ تعمیر کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ شمس الدین سرکل اور اس کے قریب سے سڑک پار کرنا اور ایک طرف سے دوسری طرف جانا انتہائی دشوار ہو جائے گا ۔ اس طرح یہ پورا علاقہ دو الگ الگ حصوں میں بٹ جائے گا ۔ شمس الدین سرکل یا اس کے آس پاس سے سرکاری ہاسپٹل ، سنڈے مارکیٹ ، منی وھان سودا، اسکول ، کالج ، ساگر روڈ وغیرہ بالکل الگ تھلگ ہوجائیں گے اور اگر اس طرف جانا ہو تو تقریباً ڈیڑھ دو کلو میٹر کا چکر لگانا پڑے گا۔ دوسری طرف رکشہ اسٹینڈ، ٹیمپو اسٹیںڈ اور سرکاری بس اسٹینڈ وغیرہ پوری طرح ایک ہی طرف ہو کر رہ جائیں گے اور سامنے والے حصہ سے الگ ہوجائیں گے ۔ یہ صورت حال عوام اور مسافروں کے علاوہ مریضوں اور طلبہ کے لئے انتہائی دشواریوں کا سبب بن جائے گی ۔
معلوم ہوا ہے کہ ہائی وے اتھاریٹی کے افسران کے ساتھ مل کر ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی نے فلائی اوور کی جگہ ریامپ کی تعمیر کا جو فیصلہ کیا ہے اس کے پیچھے سب سے اہم سبب وقت پر پروجیکٹ مکمل نہ ہونے پر لگنے والے جرمانہ سے بچنے کے لئے عجلت اور تیزی کے ساتھ کام پورا کرنا اور فلائی اوور میں لگنے والے 50 کروڑ روپے کے خرچ کو 5 کروڑ روپے خرچ کے ریامپ سے بدلنا ہے ۔
سماجی لیڈروں کا اجلاس : عوام کے مفادات سے کھلواڑ کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھاریٹی نے آئی آر بی کے لئے جو آسان راستہ فراہم کیا ہے اس کی خبر ملتے ہی مقامی سماجی لیڈروں نے ایک اجلاس منعقد کیا ۔ سرکیوٹ ہاوس میں منعقدہ اس ہنگامی اجلاس میں ہائی وے کی نئی صورت حال اور اس سے عوام کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیا گیا ۔ اور فیصلہ کیا گیا کہ رکن اسمبلی ، رکن پارلیمان، آٹو اور ٹیمپو یونین کے ذمہ داران کے ساتھ مل کر نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا پر دباو ڈالا جائے اور ریامپ کے بجائے طے شدہ منصوبہ کے مطابق فلائی اوور کی تعمیر پر اصرار کیا جائے ۔ اور اگر ہائی وے اتھاریٹی نے اس مطالبہ کو ان دیکھا کیا تو آئندہ کیا اقدامات ہونے چاہیئں اس سلسلے میں بھی مشورہ اور فیصلہ کیا گیا ۔
اس ہنگامی اجلاس میں سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک کے علاوہ راجیش نائک ، ایم آر نائک ، مجلس اصلاح و تنظیم کے صدر ایس ایم پرویز، نائب صدر عتیق الرحمٰن منیری ، جنرل سیکریٹری عبدالرقیب ایم جے ، جیلانی شاہبندری ، عنایت اللہ شاہبندری، محتشم منڈے صائب ، بھٹکل بلاک کانگریس صدر سنتوش نائک ، ضلع کانگریس اقلیتی صدر عبدالمجید، اشفاق کے ایم وغیرہ موجود تھے۔
